امریکہ ایران جنگ کے اثرات کے بارے میں مختلف ممالک کے بااثر افراد کیا سوچتے ہیں؟
کرپٹو کرنسی پر بنائی گئی بی بی سی کی رپورٹ کی مدد سے فراڈ کیسے کیا گیا؟
ایک کرپٹو والیٹ کا ہونا آپ کی جیب میں ڈیجیٹل ’فورٹ ناکس‘ رکھنے جیسا ہو سکتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ یہ فورٹ ناکس صوفے کے پیچھے غائب ہو سکتا ہے۔
امریکہ کے اس اقدام سے نئے سرمایہ کاروں جیسے کہ بلیک راک جیسے بڑی کمپنیوں کو یہ اجازت مل گئی ہے کہ وہ بِٹ کوائن کی دنیا میں قدم رکھ سکیں یہ سوچے بغیر کہ ان کے ڈیجیٹل والٹ یا کرپٹو ایکسچینجز کی صورتحال کیا ہے۔
طلبہ اور ان کے سرپرستوں کے لیے ضروری ہدایات اور قواعد وضوابط
بھوٹان ہندوستان کو پن بجلی برآمد کرتا ہے۔ لیکن بٹ کوائن کی کان کنی بھوٹان کو برآمدات کا متبادل فراہم کرتی ہے۔ جہاں ٹیرف کی شرحیں اچھی ہیں ، وہ ہندوستان کو بجلی فروخت کرتی ہے۔ ان منصوبوں میں جہاں شرحیں اچھی نہیں ہیں ، بھوٹان طاقت کو برقرار رکھتا ہے اور اس کے بجائے اس کو مائن بٹ کوائن میں استعمال کرتا ہے ، او آر ایف کے شیوامورتی نے وضاحت کی۔
یاد رہے بٹ کوائن کی ملکیت کو مختلف گروپس میں رکھا جاتا ہے جو یہ بتاتے ہیں کہ کس ایڈریس پر کتنے بٹ کوائنز موجود ہیں۔
جب میں ویب پر اپنی رقم دے کر خوش تھا تو ایسے میں مجھے فوراً معلوم ہوا کہ بٹ کوائن کو آن لائن بلوک چین منشیات خریدنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جو ایک ایسی چیز تھی جس کی میں نے کبھی کوشش نہیں کی۔ بٹ کوئن کو آپ اپنی ہفتہ وار خریداری کے لیے استعمال نہیں کر سکتے۔ مجھے یہ اس لیے معلوم ہے کیونکہ ایک سٹور پر لوگ مجھ بٹ کوائن کی قیمت پر ہنس چکے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ بٹ کوائن "قیمت کی بچت" ہے۔ لیکن بٹ کوائن کی کوئی قیمت نہیں۔ جو چیز آپ رکھ نہیں سکتے اس کی بچت کیسے کر سکتے ہیں؟
گذشتہ چند ہفتوں میں رونما ہونے والے ان واقعات کے بعد سے ان مالیاتی اداروں کو ’بِٹ کوائن وہیل‘ کہا جانے لگا ہے۔
کرپٹو کرنسی اور ہارڈ منی کے درمیان ایک اہم فرق یہ ہے کہ کرپٹو میں متعدد افادیتیں، یا اضافی فوائد بھی ہوسکتے ہیں۔ مثال کے طور پر یہ کسی ایونٹ کے ٹکٹ یا کسی کمپنی میں حصہ داری کی نمائندگی کر سکتا ہے۔
پولیس نے پانچ گھنٹے تالاب میں چھپے رہنے والے انتہائی مطلوب چور کو کیسے پکڑا؟
کمپیوٹرز کو چلانے اور انھیں ٹھنڈا رکھنے کی ماحولیاتی لاگت کی وجہ سے بٹ کوائن کی مائننگ متنازعہ ہے۔
ٹرمپ کا اسلام آباد میں مذاکرات کے دوسرے دور کا عندیہ: ایران، امریکہ مذاکراتی عمل کے بارے میں ہم اب تک کیا جانتے ہیں؟